نئی دہلی،4؍ جولائی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) پبلک سیکٹر کی ایئر لائن کمپنی ایئرانڈیا کی نجی کاری طے ہے۔یہ معلومات مرکزی شہری ہوابازی کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے ایوان کو دی ہے۔انہوں نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ ایئرانڈیا کو اب چلانا ناممکن ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہر روز ہمیں 15 کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔وہیں 20 ہوائی جہاز کی کمی کا شکار ہیں،اس لئے ہمیں حالت بہتر بنانے اور پھر سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔یہ پہلی بار ہے جب حکومت نے واضح طور پرایئرانڈیا کے پرائیوٹ کرنے کی بات کہی ہے۔اس سے پہلے حکومت ایئرانڈیا کے نجی کاری کی کوشش کر رہی تھی۔نجی کاری کی کئی کوششیں ناکام بھی ہو چکی ہیں۔بتا دیں کہ نجی کاری عمل سرمایہ کاری کے برعکس ہوتا ہے،جہاں سرمایہ کاری کسی کاروبار، کسی ادارے یا کسی منصوبے میں رقم لگانا ہوتا ہے تو وہیں نجی کاری کا مطلب اس رقم کو واپس نکالنا ہوتا ہے۔ایئرانڈیا کو اس مالی سال میں 9000 کروڑ روپے کے قرض کی ادائیگی کرنا ہے۔کمپنی نے اس پر حکومت کی مدد مانگی تھی، لیکن اسے قبول نہیں کیا گیا۔حکومت اس ایئر لائن میں اپنی 76 فیصد حصہ داری فروخت کرنا چاہتی ہے۔ہردیپ سنگھ پوری نے بتایا کہ ایئرانڈیا کو پاکستانی پرواز علاقہ میں داخلے پر پابندی کی وجہ سے بھی نقصان ہوا ہے۔دراصل جموں و کشمیر کے پلوامہ میں گزشتہ 14 فروری کو خودکش بم دھماکے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھنے کی وجہ سے ہندوستانی پروازوں کے لئے پاکستانی فضائی حدود کو بند کر دیا گیا تھا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اس کی وجہ سے ایئرانڈیا کو 300 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔حال ہی میں ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قرض میں ڈوبی پبلک سیکٹر کی ایئر لائن کمپنی ایئرانڈیا کے ملازمین کو آنے والے دنوں میں سیلری بحران سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایئرانڈیا کے پاس اکتوبر کے بعد ملازمین کو سیلری دینے کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ایک میڈیا ادارے کو سرکاری افسر نے بتایا ہے کہ حکومت نے ایئرانڈیا کو 7000 کروڑ کی رقم پر ضمانت دی تھی اور کمپنی کے پاس اب 2500 کروڑ روپے باقی ہیں۔یہ رقم جلد ہی تیل کمپنیوں، ایئر پورٹ آپریٹرز اور دیگر ویڈرس کے بقایا ادا کرنے کے علاوہ کچھ مہینوں کی سیلری دینے میں خرچ ہو جائیں گے۔